Tag Archive: poem


A poem from my heart

جاتا پل جب آ نے والے پل کا ہاتھ پکڑ تا ہے

میری خواب سراۓ  میں اک نیا دریچہ کھلتا ہے

پھر میں اس میں جھانک کے جانے کتنے منظر دیکھتی ہوں

وقت کا د ھ ار ا جیسے میرے ساتھ ہی چلتا رکتا ہے

میری سوچیں مجھے اڑ ا  کر دور کہیں لے جاتی ہیں

اس انجان  محل میں جس کا ہر اک برج سنہرا هے

جس میں چند اکیلی یادیں صدیوں سے لہراتی ہیں

لیکن جس کے در پیے آج بھی تیز ہوا کا پہرا ہے

سینکڑ و ں بار صدا  دینے پرایک جھروکا  کھلتا ہے

اک ان جانی سرگوشی مجھے اپنے پاس بلاتی ہے

سب کلیوں سے شبنم چن کر میرے ہاتھ پی رکھتی ہے

اور گھٹا کےآ ینۓ میں سارا جہاں دکھلاتی ہے

سوچ سمندر کی سیپوں  سے موتی چنتی رہتی ہوں

میں اپنے دل کی سب با تیں اس ہمدم سے کہتی ہوں

وو بے شکل صدا  میرا ہر خواب مکمل کرتی ہے

چند کو میرے ہاتھ کا کنگن دھنک کو آنچل کرتی ہے

لیکن نام پتا پوچھوں تو وہ چھپ سی ہو جاتی ہے

بند ہوتا ہے محل جھروکا پھر سے کہیں کھو جاتی ہے

                                              saleha waseem

Advertisements

محبت اوس کی صورت

پیاسی پنکھڑی کے ہونٹ کو سیراب کرتی ہے

گلوں کی آستینوں میں انوکھے رنگ بھرتی ہے

سحر کے جھٹپٹے میں گنگناتی، مسکراتی جگمگاتی ہے

محبت کے دنوں میں دشت بھی محسوس ہوتا ہے

کسی فردوس کی صورت

محبت اوس کی صورت

محبت ابر کی صورت

دلوں کی سر زمیں پہ گھر کے آتی ہے اور برستی ہے

چمن کا ذرہ زرہ جھومتا ہے مسکراتا ہے

ازل کی بے نمو مٹی میں سبزہ سر اُٹھاتا ہے

محبت اُن کو بھی آباد اور شاداب کرتی ہے

جو دل ہیں قبر کی صورت

محبت ابر کی صورت

محبت آگ کی صورت

بجھے سینوں میں جلتی ہے تودل بیدار ہوتے ہیں

محبت کی تپش میں کچھ عجب اسرار ہوتے ہیں

کہ جتنا یہ بھڑکتی ہے عروسِ جاں مہکتی ہے

دلوں کے ساحلوں پہ جمع ہوتی اور بکھرتی ہے

محبت جھاگ کی صورت

محبت آگ کی صورت

محبت خواب کی صورت

نگاہوں میں اُترتی ہے کسی مہتاب کی صورت

ستارے آرزو کے اس طرح سے جگمگاتے ہیں

کہ پہچانی نہیں جاتی دلِ بے تاب کی صورت

محبت کے شجر پرخواب کے پنچھی اُترتے ہیں

تو شاخیں جاگ اُٹھتی ہیں

تھکے ہارے ستارے جب زمیں سے بات کرتے ہیں

تو کب کی منتظر آنکھوں میں شمعیں جاگ اُٹھتی ہیں

محبت ان میں جلتی ہے چراغِ آب کی صورت

محبت خواب کی صورت

محبت درد کی صورت

گزشتہ موسموں کا استعارہ بن کے رہتی ہے

شبانِ ہجر میںروشن ستارہ بن کے رہتی ہے

منڈیروں پر چراغوں کی لوئیں جب تھرتھر اتی ہیں

نگر میں نا امیدی کی ہوئیں سنسناتی ہیں

گلی جب کوئی آہٹ کوئی سایہ نہیں رہتا

دکھے دل کے لئے جب کوئی دھوکا نہیں رہتا

غموں کے بوجھ سے جب ٹوٹنے لگتے ہیں شانے تو

یہ اُن پہ ہاتھ رکھتی ہے

کسی ہمدرد کی صورت

گزر جاتے ہیں سارے قافلے جب دل کی بستی سے

فضا میں تیرتی ہے دیر تک یہ

گرد کی صورت

محبت درد کی صورت


میں کی کیتا ہاسے ہاسے

لے بیٹھی آ ں پریت دی کھاری

ہن چکاں تے بھا روں ڈردی

نہ چکاں تاں قولؤں ہاری